Skip to main content

An opinion


Prof Muhammad Qasim
0334-8073431



 میچیورٹی کسے کہتے ہیں۔؟

میچیورٹی کیا ہے ؟

میچیورٹی کسی انسان میں کس وقت آتی ہے ؟


‏میچورٹی کا ایک لیول یہ ہوتا ہے کہ آپ وضاحت دینا چھوڑ دیتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں، بحث نہیں کرتے اگر کوئی آپکو برا بھلا بھی کہہ دے تو یہ کہہ کر مسکرا کر آگے بڑھ جاتےہیں کہ " Yes I'm "۔۔۔

اسکا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ سچ میں ویسے ہی ہوتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ وہ بات آپکے لیے اہمیت ہی نہیں رکھتی۔


یاد رکھیں۔۔

گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے تک ہی کتا بھونکتا اور دوڑتا رہتا ہے، 

نہ ہی کتا آپ سے گاڑی چھیننا چاہتا ہے

نہ گاڑی میں بیٹھنا چاہتا ہے 

اور نہ ہی اسے گاڑی چلانی آتی ہے


( آپ میں سے اکثر نے یہ تجربہ کیا ہوگا کہ کتے سے پیچھا چھڑانے کے لیے جیسے ہی آپ نے گاڑی روکی تو کتا فوراً پیچھے کی جانب بھاگ جاتا ہے مگر کتے کو بھگانے کے لیے آپ کو گاڑی روک کر چند لمحے اپنا وقت ضائع کرنا پڑتا ہے )

کچھ لوگ گاڑی نہیں روکتے انہیں معلوم ہے کہ خوامخواہ بھوکنا کتے کی عادت ہے۔۔



ایسے ہی زندگی کے سفر میں جب آپ اپنی منزل کی طرف رواں داواں ہوتے ہیں تو کچھ اسی عادت کے لوگ بنا کسی مقصد کے آپ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔

اس لئے جب آپ اپنی منزل پر رواں دواں ہوں اور لوگ آپ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کریں تو ان سے الجھنے کے بجائے اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہیں،


یاد رکھیں، 

آپ کو تلخ نہیں ہونا،

آپ کو بدلہ لینے والا نہیں بننا۔

آپ کو چالیں چلنے والا،

جال بچھانے والا بھی نہیں بننا۔

آپ کو ایسا بھی نہیں ہونا کہ آپ خود غرض اور شاطر کہلائیں۔

اور ایسا بھی نہیں کرنا کہ آپ گڑھے کھودیں۔


آپ کو زخم لگے ہیں، دل پر ہیں اور روح پر بھی ہیں،

لیکن ان کے لیے مرہم بدلہ لے کر تیار نہ کریں۔

آسمانی مرہم ہی اچھے ہوتے ہیں۔

رحمانی مرہم ہی شفاء دیتے ہیں۔

چھوڑ دیں جو ہوا سو ہوا ، جانے دیں جس نے جو کیا۔

اپنے پیچھے کے دروازے بند کر کے آگے بڑھ جائیں۔

زخم دینے والوں، تکلیف پہنچانے والوں،

روح کو روند دینے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا حال ٹھیک کریں۔ کیونکہ آپ کو وہ نہیں بننا جو حالات آپ کو بنا رہے ہیں۔ آپ کو وہ بننا ہے جو آپکا رب آپکو بنانا چاہتا ہے ۔


"رب کا بندہ بننے کی کوشش کریں"

بندہِ مومن۔۔۔

یعنی ایک بہترین انسان۔۔۔


ان شاءاللہ کامیابی آپ کی منتظر رہے گی.❣️

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Reference To Context:: Learn it and get 5 out of Five marks

How to do RTC in the paper? Reference:       (According to poem) Context:          (According to Poem) Explanation: In these lines the poet tells about _______________. These lines have many layers of meanings. The upper meaning of these lines is very easy to understand even by the common reader. But the hidden meaning of these lines is complex and thought provoking. In these lines, the poet says that ______________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________ . Rhyme scheme of these lines is ____________________. These lines give us a very important lesson. For Example. Explain the following with reference to context:                               ...

Most Important Translation Paragraphs For Graduation+Inter Classes

1. ایک دفعہ حضور اکرم ﷺ ایک درخت کے نیچے آرام فرمارہے تھے ۔کہ ایک دشمن ہاتھ میں تلوار لیے اُدھر آ نکلا اور پوچھا میرے ہاتھ سے آپ ﷺ کو کون بچا سکتا ہے؟ حضور ﷺ نے جواب دیا میرا اللہ ! دشمن خوف سے کانپنے لگا اور تلوار اس کے ہاتھوں سے گرپڑہی ۔ حضور ﷺ  نے تلوار اُس پر تان کر اُسی کی بات دہرائی ۔ دشمن  نے کہا آ پ ﷺ ہی مجھے بچا سکتے ہیں۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا   " جس اللہ نے مجھے تم سے بچایا وہی تمیں بھی مجھ سے بچانے کی قدرت رکھتا ہے ۔ Once the Holy Prophet ( ﷺ ) was taking a rest under a tree. An enemy with a sword in his hand happened to come there. He asked the Holy prophet ( ﷺ ), “Who can save you from me?” The Holy prophet ( ﷺ ) replied, “My ALLAH!” The enemy began to tremble with fear and the sword fell down from his hand. Raising the sword on him, the Holy Prophet ( ﷺ ) repeated his words. The enemy said, “Only you can save me”. The Prophet of ALLAH ( ﷺ ) said, “ALLAH who saved me from you has the power to save you from me.” 2.ڈاکٹر اقبال ہمارے قومی شاعر ہیں۔ ...

The Man Who Was A Hospital: Lesson # 6, English Second Year

The Man Who Was A Hospital The Man Who was a Hospital" is an example of Jerome’s fine humour. He exaggerates but the story is based upon sound observation of human behaviour. Many persons with a little knowledge of diseases and their symptoms think that they are suffering from such diseases.    Jerome Klapka Jerome was born on May 2,1859. His father name was Jerome clap.He had two sisters and one brother .His father was died when he was only 13 years old and his mother died when he was only 15. He worked in Railway for four years.Then he joined theater with his sister. But after three years whenhe saw no success in theatre he left it.He started towrite stories ,essay and satires.During this time he worked as a teacher in schools,a packer and clerk.   He was an English writer and humorist, His best book is " three men in a boat " which was written in 1889. His second best book was Idol thoughts of an idle fellow.Hisanother book is My life and Times which wa...